ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ہبلی :منگلورو چلو بائک ریلی پر پولس نے لگائی بریک :پرہلاد جوشی ، جگدیش شٹر سمیت 500سے زائد بی جے پی یوتھ کارکنان گرفتار

ہبلی :منگلورو چلو بائک ریلی پر پولس نے لگائی بریک :پرہلاد جوشی ، جگدیش شٹر سمیت 500سے زائد بی جے پی یوتھ کارکنان گرفتار

Tue, 05 Sep 2017 18:10:19    S.O. News Service

ہبلی:05/ستمبر (ایس اؤنیوز)ودھان سبھا میں حزبِ مخالف لیڈر جگدیش شٹر اور دھارواڑ کے بی جے پی رکن پارلیمان پرہلاد جوشی کی قیادت میں نکلی بی جے پی یوتھ مورچہ کی ’’منگلورو چلو‘‘بائک ریلی کو پولس نے ہبلی شہر کے نواحی علاقے انچٹگیری میں روک لیااور جگدیش شٹر ،پرہلاد جوشی سمیت بی جے پی یوتھ مورچہ کے 500کارکنوں کو گرفتارکرنے کا واقعہ پیش آیاہے۔

ریاست میں ہندو کارکنوں کے قتل کا ریاستی کانگریس حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی یوتھ مورچہ ریاست کے اہم شہروں سے بائک ریلی کا اہتمام کیا تھا جس پر ریاستی سرکار نےپابندی عائد کی تھی۔ جس پر کارروائی کرتے ہوئے پولس نے ریلی روک کر اہم لیڈران کو گرفتارکرلیا ہے۔ اس سے قبل بی جے پی کے رکن اسمبلی اروند بیلد نے بائک ریلی کو ہری جھنڈی دکھائی ۔ ریلی جیسے ہی انچٹ گیری پہنچی تو پولس پہلے سے وہاں سکیورٹی کا جال بچھائی ہوئی تھی تمام کو روک لیا تو کارکنا ن سڑک پر ہی بیٹھ کر سرکار، پولس اور سدرامیا کے خلا ف نعرہ بازی کرنے لگے تو پولس نے انہیں گرفتارکرلیا۔ اسی طرح ریلی پر پابندی عائد کئے جانے کی مذمت کرتےہوئے بی جے پی یوتھ کارکنان نے نہرو میدان میں بھی احتجاج کی کوشش کی تو وہاں بھی پولس نے انہیں اپنی تحویل میں لیا۔

منگلورو چلو بائک ریلی پر پابندی اور گرفتاری سے بوکھلائے ایم پی پرہلاد جوشی نے بیان جاری کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ریاستی وزیرا علیٰ سدرامیا داؤد ابراہیم کے چچا کی طرح رویہ اپنا ئے ہوئے ہیں، ان کی سرکار ہندو مخالف پالیسی پر عمل پیرا ہے، وہ مسلمانوں کو خوش آمد کرنے والی سیاست کررہے ہیں، سدرامیا کو یاد رہے کہ اسی اقلیتی نوازی نے کانگریس کو پور ے ملک میں لے ڈوبی ہے، آئندہ ریاست میں بھی کانگریس کی یہی درگت ہونےو الی ہے ، پولس افسران سوچ سمجھ کر رویہ اختیار کرنےکی بات کہی۔ انہوں نے پر بائک ریلی پر پابندی عائد کرنے کی مذمت کی۔

اسی طرح ودھان سبھا میں حزبِ مخالف لیڈر جگدیش شٹر نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی حکومت بائک ریلی کو جاری رہنے دے ، اگر بائک ریلی کو روکا گیاتو آئندہ ہونے والے خطرات و حادثات کے لئے ریاستی وزیراعلیٰ ہی ذمہ دارہونگے۔ سرکاردباؤ والی پالیسی پر عمل کرنے کا الزام لگایا۔ کرناٹکا میں 18سے 20ہندو کارکنان کا قتل ہواہے، سدرامیا سی آئی ڈی کے ذریعے کچھ نہیں کرپارہے ہیں، ایک طرف قتل اور دوسری طرف رشوت خوری دھڑلے سے جاری ہے اس کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کانگریس کی حکومت میں فرقہ وارانہ فسادات میں اضافہ ہواہے۔ وزیر رماناتھ رائی کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استعفیٰ دینے کی مانگ کی۔ وزیر داخلہ رام لنگا ریڈی کو انہوں نے وزیراعلیٰ کی کٹھ پتلی بتایا۔ ڈی سی پی نیام گوڈا کی قیادت میں شہر بھر میں پولس سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

WhatsApp_Image_2017-09-05_at_5_11_00_PM.jpeg


Share: